9 جولائی 2012 - 19:30

يورپي يونين نے رکن ملکوں کو مقبوضہ فلسطين کي صہیوني کالونيوں ميں تيار ہونے والي اسرائيلي مصنوعات کے بائيکاٹ کي اجازت ديدي ہے.

ابنا: فلسطين کے انفارميشن سينٹر کے مطابق کيمبرج يونيورسٹي کے پروفيسر جيمز کرافورڈ نے جو بل تيار کيا ہے اس کے مطابق صہيوني بستيوں ميں تيارشدہ مصنوعات کے خلاف ہمہ گير پابندي اورغرب اردن ميں تيار ہونے والي  اسرائيلي مصنوعات کا بائيکاٹ کرنے کے لئے چلائي جارہي مہم کي حمايت کي زمين ہموار ہوگئي ہے  -

پروفيسر کرافورڈ نے ساٹھ صفحات کي اپني رپورٹ ميں جو يورپي يونين کے بہت سے عہديداروں کے ہاتھوں تک پہنچ چکي ہے لکھا ہے کہ جو بھي ملک صہيوني ریاست کي مصنوعات کا بائيکاٹ کرے گا وہ يورپي يونين کے قوانين کي خلاف ورزي کا مرتکب نہيں ہوگا -

انہوں نے يہ بھي کہا کہ صہيوني ریاست کي مصنوعات کا بائيکاٹ تجارت کي عالمي تنظيم ڈبليو ٹي او کے رکن ملکوں کے ذريعے کئے گئے کسي بھي وعدے کي خلاف ورزي نہيں ہے کيونکہ غرب اردن اور غزہ پٹي کا شمار صہيوني اراضي ميں  نہيں ہوتا  -

  ڈنمارک ، سوئيڈن جنوبي افريقا وہ ممالک ہيں جو صہيوني مصنوعات کا بائيکاٹ کرنے پر غور کررہے ہيں جبکہ آئرلينڈ نے بھي صہيوني حکومت کے ساتھ تجارتي سرگرميوں پر پابندي عائد کئے جانے اور صہيوني بستيوں ميں تيار ہونے والي اس کي مصنوعات کا بائيکاٹ کئے جانے کا مطالبہ کيا ہے -

صہيوني ریاست کے خلاف پابندياں عائد کئے جانے کے سلسلے ميں يورپي يونين ميں زيادہ قوت کے ساتھ يہ مسئلہ ايک ايسے وقت اٹھايا گيا ہے جب اسرائيل کي توسيع پسندانہ پاليسيوں سے يورپي حکومت کي ہم آہنگي کے خلاف يورپي رائے عامہ ميں غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے -

      اس وقت يورپ کے بيشتر ملکوں ميں صہيوني ریاست کي توسيع پسندانہ اور جارحانہ پاليسيوں کے خلاف مظاہرے ہورہے ہيں اور غزہ کے محصور عوام کي مدد کے لئے ان ملکوں سے لوگ غزہ کے لئے قافلوں کي شکل ميں نکل بھي رہے ہيں - ان حالات ميں يورپي يونين کي بعض حکومتيں اپنے عوام کے غم وغصے کو ديکھتے ہوئے رائے عامہ کے احتجاج کے ساتھ ہوگئي ہيں اور بعض نے تو اب کھل کر صہيوني حکومت کي پاليسيوں پر تنقيد بھي شروع کردي ہے اور اسي وجہ سے يورپي حکومتوں اور بعض تنظيموں نے مجبور ہو کر ايک ايسا بل تيار کيا ہے جس ميں صہيوني حکومت کي مصنوعات کا بائيکاٹ کئے جانے پر زور ديا گيا ہے -.......

/169